Eleonoros paslaptis online dating fish in the sea dating

Posted by / 15-Nov-2017 10:06

Jei norite susitikti pažintys su gražia mergina, aš iš karto turi susitaikyti su tuo, kad jūs turite daug daugiau konkurencijos nei įprasta, todėl turi kažkaip išsiskirti iš pilkos masės.Laimei, tai gana paprasta padaryti, būtų tik pinigų.رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔ ہر طر ف سناٹے اور اندھیرے کا راج تھا ۔ اس کچی پکی سنسان سڑک کے گرد لمبے لمبے مختلف اقسام کے درخت اگے ہوئے تھے جو کہ اس وقت منظر کو اور بھی ہولناک بنا رہے تھے یہ شہر ہے تو صوبہ سرحد کا دارالحکومت پشاورمگر ایک تو یہ علاقہ شہر کا ماڈرن علاقہ نہیں بلکہ یہاں نسبتاً کم آمدن لوگ بستے ہیں اوران کی آبادی بھی کچھ کم ہی ہے ، دوسرا یہاں لاہور اور کراچی کی طرح اتنی رونقیں نہیں ہوتیں خیر میں یہ بھی نہیں کہتا کہ پشاور ایک بے رونق شہر ہے بالکل نہیں میرا پشاور تو بہت پررونق ، خوبصورت اور بلاشبہ خوبصورت لوگوں کا شہرہے۔ مگر جس جگہ میں رہتا ہوں، یہاں تو رات کو نو بجے کے بعد ہی دھیرے دھیرے سناٹا طاری ہوناشروع ہوجاتا ہے لیکن مجھے یہ سناٹے اپنے ہم نوا لگتے ہیں۔ زندگی کے اس پر کٹھن راستے پر یہی تو میرے ساتھی ہیں کچھ خالی ذہن اور کچھ الجھی سوچوں کے ساتھ میں اپنے راستے میں آنے والے پتھروں کو پاﺅں سے ٹھوکریں مارتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چلا جا رہا تھا۔ بس سٹاپ سے میرے گھر کا فاصلہ پندرہ سے بیس منٹ کا ہے اور ابھی صرف پانچ منٹ کا فاصلہ طے ہوا تھا چلتے چلتے اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے علاوہ یہاں کوئی اور بھی ہے مگر چاروں طرف دیکھنے پر بھی کوئی اور نظر نہ آیا، پھر دائیں طرف کچھ غیر معمولی احساس ہوا ۔ میں نے غور سے دیکھا تو وہاں جو کوئی بھی تھا، گہرے میرون رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھا اندھیرا ، بڑے بڑے سبز درختوں کا جھنڈ اور ان کے پیچھے چھپا ایک وجود ایک لمحے کو تو میں ڈر سا گیا ۔ میں کچھ اور آگے بڑھا تو سانسوں کی آواز تیز ہوتی گئی اور ساتھ ہی چوڑیاں کھنکنے کی آواز آئی۔ ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ وہ لڑکی ہے ۔میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اسے دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ ایسے لگا کہ جیسے کوئی حور زمین پر آگئی ہے ۔ دلہن کے قیمتی زیورات اور لباس میں ملبوس وہ لڑکی آنکھیں بند کیے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ۔ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے ایک طویل مسافت بھاگتے ہوئے طے کی ہے۔ میں بغور اس کا جائزہ لینے لگا ، تقریباً پانچ سال بعد میں کسی لڑکی کو اتنے قریب سے اور اتنے غور سے دیکھ رہا تھا مگر یہ روپ ، یہ معصومیت، شاید زندگی میں پہلی بار میرا سامنااس قدر مکمل حسن سے ہوا تھا، اس لیے میں اس پر سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا لیکن ایک سوال بار بار میرے ذہن میں آر ہا تھا کہ اتنی گہری رات میں ، اور وہ بھی اس حلیے میں ، یہ لڑکی یہاں کیوں چھپ کر بیٹھی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب تو وہ لڑکی ہی دے سکتی تھی ،اب تک میں ایک درخت کی آڑ لے کر اسے دیکھتا رہا تھا، اس لیے وہ میری موجودگی سے قطعی لاعلم تھی پھرمیں بالکل اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ ” سنیے آپ کون ہیں اور اتنی رات گئے یہاں کیا کر رہی ہیں؟“ میری آواز سن کر وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔ ” وہ آپ “ وہ کچھ کہتے کہتے اچانک خاموش ہو گئی اور مجھے غور سے دیکھنے لگی ۔ اس کی آنکھیں مجھے یوں دیکھ رہی تھیں جیسے اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ میں دوست ہوں یا دشمن ۔ ” دیکھیے میں اپنے گھر جا رہا تھا ، آپ کو دیکھا تو رک گیا پلیز آپ مجھے بتائیے کہ کہاں جانا ہے ؟ میں آپ کو چھوڑ آﺅں گا “ اس کی جھجھک دیکھتے ہوئے میں نے دوستانہ انداز میں کہا۔ ” آپ کے گھر “ اس نے اچانک فیصلہ کن انداز میں کہا اور میں بوکھلا گیا ۔ ” جی “ ” پلیز ، مجھے اپنے گھر لے چلیں صرف کچھ دنوں کے لیے ، میں آپ کو کرایہ بھی ادا کروں گی I’m in big trouble,please help me“ آخر میں اس کا لہجہ التجائیہ ہو گیا اور میں سوچ میں پڑ گیا ۔ ابھی میں کوئی فیصلہ بھی نہیں کر پایا تھا کہ وہ ایک دم سے کھڑی ہو گئی اور میرا بازو پکڑ کر کھینچنے لگی ” پلیز چلیں یہاں سے ، وہ لوگ کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتے ہیں “ ” لیکن محترمہ!

جو بھی نام ہے آپ کا دروازہ کھولیں“ میں نے دستک دیتے ہوئے کہا ۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھل گیا۔ ” وہ چھپکلی تھی“ اس نے دروازہ کھول کر شرمندگی سے وضاحت کی مگر میرا دھیان کب تھا ۔ میں تو اس کے نئے روپ کو دیکھ رہا تھا ۔ وہ اپنے زیورات اور کپڑے بدل چکی تھی اور اس وقت بلیک پینٹ اور سکن کلر کرتے میں ملبوس تھی، البتہ میک اپ اب بھی چہرے پر موجود تھا ۔ ” مجھے چھپکلی سے بہت ڈر لگتا ہے آپ پلیزاس کا کچھ کریں“ اس نے کہا تو میں سر جھٹک کر خود کو سرزنش کرتااندر کمرے میں جا کر چھپکلی کو ڈھونڈنے لگا جبکہ وہ برآمدے میں جا کر بیٹھ گئی ۔ پتا نہیں اس لڑکی میں ایسی کیا بات تھی کہ میں کچھ دیر ہی کے لیے سہی لیکن اس کے سامنے بے خود ہو جاتا تھا اور اپنی یہ بے بسی مجھے زچ کر رہی تھی۔ ” عجیب لڑکی ہے گھر سے بھاگ آئی ، ادھر جھاڑیوں میں گھسی بیٹھی تھی اور اب یہاں ایک چھپکلی سے ڈر رہی ہے “ میں منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہا تھا کہ ایک دم سے آواز آئی” کیا اس عجیب لڑکی کو آپ اپنا نام بتانا پسند کریں گے “ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی تھی ۔ اس کے ہونٹوں پر شریر سی مسکراہٹ تھی ۔ اس کے دوستانہ انداز نے مجھے بھی وہی رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا۔ ” میرا نام شہروز گل ہے اور آپ “ ” well, I’m Laiba اور میری فرئنڈز مجھے پیار سے لائب کہتی ہیں“ ” جی تو مس لائبہ!

ہم نے ایک کاغذ پر پڑھا ہے کہ اس گھر سے ایک لڑکی کہیں چلی گئی ہے ، جو کہ پاگل ہے ۔ ہمیں ایک موقع چاہیے ہم رب کی مرضی سے ، اپنے ایک عمل سے اسے واپس لا سکتے ہیں“ میں نے وہاں جا کر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت مخصوص انداز میں کہا۔ ” کیا واقعی عامل بابا!

بتائیے ہمیں کیا کرنا ہو گا “ میری آواز سن کر اندر سے دو تین گارڈز باہر آگئے۔ خلاف توقع وہ ایک دم شکار ہو گئے تھے۔ ” ہمیں پہلے اس کے مجبور باپ سے ملواﺅ“ میرے کہنے پر ان میں سے ایک مسکرانے لگا جبکہ دوسرے نے بتایا کہ وہ امریکہ گئے ہیں اور ایک ہفتے بعد آئیں گے ۔ ” اچھا تو میں بھی تب ہی آﺅں گا “ میں یہ کہہ کر وہاں سے چلا آیا ۔ دراصل لائبہ نے مجھے ایسا ہی کرنے کو کہا تھا ۔ واپس آکر میں نے لائبہ کو بتایا تو وہ بہت خوش ہوئی ۔ پھر وہ میرے ساتھ برقعے میں مارکیٹ آئی ۔ اس نے کچھ میگزینز خریدے ، کچھ شاپنگ وغیرہ کی اور ایک موبائل بھی خرید لیا ۔ اس نے مجھے بھی موبائل خریدنے کو کہا مگر میں نے منع کر دیا ،نجانے کیوں؟؟؟ میرادل ان سب چیزوں سے اچاٹ ہو چکا تھا ، اگر کوئی خواہش تھی بھی تو صرف اریبہ کے حوالے سے ورنہ تو تمنائیں کب کی دم توڑ چکی تھیں۔ ٭ ٭ ٭ ” شہروز شہروز!

Daugelis paslaugos leidžia jums padaryti virtualių žaislų ar gėlių, kurios vėliau bus pateikti į puslapio klausimyno mergina forma dovaną.

Dėl specialių dovanų yra net galimybė suteikti VIP statusą į svetainę, kuri gali gerokai išplėsti Profilio merginos (papuošti savo puslapį, nematomas, paslėpti amžius ir pan.) Mes sutinkame, kad dabartinės reikia pinigų, o tai ne visada pakanka, bet mes kalbame apie savo galimą ateitį. Be to, jei jūs įvykdėte realiame gyvenime, greičiausiai, būtų pakvietė ją į kavinę, restoraną, pirko gėlių, ir tt, tai būtų daug daugiau nekenksmingas dovana.

eleonoros paslaptis online dating-11eleonoros paslaptis online dating-82eleonoros paslaptis online dating-71

ویسے تمھارا پلان واقعی زبردست ہے بہت چالاک سمجھتی ہے خود کو یہ لائبہ ہماری اصلیت جان گئی مگر اب ایک ذہنی بیمار لڑکی کی بات کا کون یقین کرے گا “ سیٹھ ہمدانی اس وقت ۸۴ سالہ سہیل آفریدی سے محو گفتگو تھا جو نہ صرف ہمدانی کا دوست اور فیملی ڈاکٹر تھا بلکہ اسی کے ساتھ لائبہ کی شادی ہونے جا رہی تھی۔ ٭ ٭ ٭ ” آج تم لیٹ کیسے “ میں آفس پہنچا تو میرا ایک کولیگ مجھ سے پوچھنے لگا۔ ” ہاں وہ بس یونہی“ میرا انداز سراسر ٹالنے والا تھا لیکن اس کا ذہن بھی کہیں اور الجھا ہوا تھا اس لیے وہ نظر انداز کر گیا ورنہ اسے مطمئن کرنا اتنا آسان نہ تھاکیونکہ تمام کولیگز میں صرف عمران ہی ایسا تھا جس سے میری کافی بے تکلفی تھی ورنہ تو میں بہت لیے دیے رہنے والا انسان تھا ۔ ” خیر میرے پاس ایک بہت زبردست نیوز ہے ۔ تم بس دو منٹ انتظار کرو ، میں ابھی آتا ہوں“ عمران بڑے ہی رازدارانہ انداز میں کہہ کر چلا گیا تو میں سوچ میں ڈوب گیا۔آج واقعی کچھ گڑبڑ تھی کیونکہ آفس میں کوئی بندہ بھی ڈھنگ سے کام نہیں کر رہا تھا ۔ ایک ہلچل سی مچی ہوئی تھی ۔ میں اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا اور پھر سے لائبہ کے بارے میں سوچنے لگا۔ ” وہ لڑکی وہ آخر کیوں بھاگی کہیں کوئی مجرم تو نہیں ۔ آئے دن اخبارات ایسی وارداتوں سے بھرے ہوتے ہیں مگر میرے گھر میں اسے کیا ملے گا ارے میرے بریف کیس میں پورے 50 ہزار کی رقم موجود ہے کہیں نہیں ، نہیں ایسی لگتی تو نہیں“ میں خود ہی مفروضے قائم کر رہا تھا اور پھر خود ہی انھیں غلط بھی ثابت کر رہا تھا ۔الجھن بڑھی تو میں نے سر جھٹک کر ساری سوچوں کو پیچھے دھکیل دیا ۔اسی وقت عمران چلا آیا ۔ وہ بہت پرجوش نظر آرہا تھا ۔ ” شہروز تجھے پتا ہے باس کی بیٹی اپنی شادی سے بھاگ گئی بے چارے باس ایک قابل ڈاکٹر سے شادی کروارہے تھے اپنی پاگل بیٹی کی لائبہ نام ہے اس کا ، ذہنی توازن درست نہیں ۔ شوروغل سے ڈر کر بھاگ گئی، مگر ہے بہت خوبصورت یہ دیکھ تصویر “ وہ اور بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا مگر میں تو اس تصویر کو دیکھ کر گنگ رہ گیا ، بلاشبہ یہ وہی لڑکی تھی جو کل رات سے میرے گھر میں تھی ۔ پھر بعد میں مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس پر 50 لاکھ کا انعام ہے ۔ میں لالچی نہ تھا مگر ایک مجبور اور بے کس باپ کی مدد کرنا چاہتا تھا لیکن باوجود لاکھ کوشش کے میں شام تک کسی کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتا سکا ۔ پتا نہیں کیوں بار بار اس کی معصوم صورت سامنے آجاتی اور میں کچھ نہ کہہ پایا۔ پھر اس بات سے خود کو تسلی دی کہ اسے رات کو خود اس کے گھر چھوڑ آﺅں گا ، کچھ گھنٹوں کی تو بات ہے ۔ شام چھ بجے میں آفس سے گھر کے لیے نکلا ، تقریبًا سات بجے میں گھر کے باہر تھا میں نے تالا کھولا اور جیسے ہی اندر قدم رکھا میر ے ہوش اڑ گئے اس ذہنی مریضہ نے میرے گھر کو بھی مریض بنا دیا تھا ۔ سارا کچن کا سامان صحن میں شفٹ ہو چکا تھا اورزیادہ تر برتن اپنی زندگی پوری کر چکے تھے میں تھوڑا اور آگے بڑھا تو دیکھا پانی والا برتن بھی ٹوٹ چکا تھا۔ کچن ، کمرا غرض پورا گھر ہی الٹ پلٹ ہو رہا تھا ۔ میرے سامان کے ساتھ ساتھ لائبہ کے کپڑے اور زیورات بھی بکھرے ہوئے تھے مگر یہ سب کس نے کیا ؟؟؟ یہ سوال ذہن میں آتے ہی جواب بھی فوراً آگیا لائبہ کیونکہ گھر کو باہر سے تالا لگا ہوا تھا اور اندر صرف لائبہ تھی مگر وہ اس وقت ہے کہاں ؟؟؟اس کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تو وہ سیڑھیوں کے پاس بے ہوش پڑی نظر آئی۔ اس کی حالت اور گھر کی حالت دیکھ کر تو مجھے یقین آگیا کہ لائبہ ذہنی مریضہ ہے بہت مشکل سے محترمہ ہوش میں آئیں۔ ” یہ آپ نے میرے گھر کی کیا حالت بنا ئی ہے “ میں نے لہجے کو حتی الامکان نرم ہی رکھا تھا ۔ ” مجھے بہت بھوک لگی ہے میں پچھلے دو دن سے بھوکی ہوں“ میرے سوا ل کو یکسر نظر انداز کر کے اس نے ادھ کھلی آنکھوں سے معصومیت کے ساتھ میری طرف دیکھتے ہوئے کہا اور حیرت کی بات ہے کہ مجھے بالکل بھی غصہ نہ آیا ۔ میں قریب کے ہوٹل سے جا کر اس کے لیے کھانا لے آیا ۔ وہ اب بھی وہیں بیٹھی تھی جہاں میں اسے چھوڑ کر گیا تھا ۔ میں نے اسے کمرے میں آنے کو کہا اور کھانا لگا دیا ۔ وہ اطمینان سے کھانا کھانے لگی۔ ” یہ سب تم نے کیوں کیا “ وہ کھانے سے فارغ ہوئی تو میں نے پوچھا ” کیوں کیا مجھے اتنی بھوک لگی تھی مگر ایک تو گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھااور دوسرا باہر بھی تم تالا لگا کر گئے تھے “ اس نے اتنی بے تکلفی سے کہا جیسے ہماری بہت ہی پرانی جان پہچان ہو۔ ” کیوں تمھیں کھانا پکانا نہیں آتا “ ” نہیں میں نے کوئی کوکنگ کورس نہیں کیا چائے بنائی تھی مگر اس میں چینی کی جگہ نمک ڈال دیا تھا اور وہ بسکٹ کا ڈبا میں نے غصے میں اپنی بیک پر پھینکا تو وہاں سنک میں جا گرا پھر مجھے اور غصہ آگیا اور میں نے یہ سب کر دیا “ اس نے سادگی سے اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔ اس کی بے وقوفی کی داستان سن کر میرے چہرے پر اچانک جو مسکراہٹ آئی تھی ، وہ گھر کے نقصان اور ’ ’ ذہنی توازن گڑبڑ ہے “ ان دونوں باتوں کوسوچ کر ایک دم ہی غائب ہو گئی ۔ ”چار سے پانچ ہزار روپے کا تو کم سے کم نقصان ہو ہی گیا ہے “ میں سوچ رہا تھا کہ اس نے میری خاموشی کی وجہ پوچھی میں نے بتا دی ۔ ” صرف پانچ ہزار اس سے کیا فرق پڑتا ہے “ اس نے بے فکری سے کہا۔ ” یہ تمھارے جیسی کروڑ پتی کے لیے صرف ہیں ، میرے لیے نہیں کبھی خود کما کر دیکھو تو پیسے کی قدر معلوم ہو ، دولت میں کھیلنا تو آسان ہے مگر اس کے لیے تگ و دو بہت مشکل میں تمھاری حقیقت جان چکا ہوں “ میں نے جلے بھنے انداز میں کہا۔ ” ہاں میں امیر ہوں مگر مجھے دولت سے کوئی غرض نہیں کیونکہ اسی دولت نے مجھ سے میرے پیاروں کو چھین لیا۔ میرے قریب آنے والوں کو مجھ سے نہیں میری دولت ہی سے تو غرض تھی اور میرا اعتبار ، میری محبت بار بار ٹوٹتی رہی anyway I’m sorry for this چلیں ہم دونوں مل کر یہ سب سمیٹ لیتے ہیں“ وہ فوراً ہی اٹھ کھڑی ہوئی لیکن اس کی آنکھوں میں جھلملاتے آنسو میں نے دیکھ لیے تھے اس لیے اسے کچھ نہ کہا ۔ پھر ہم دونوں نے مل کر ہر چیز کو اس کی جگہ پر واپس رکھ دیا ۔ اس کام میں دو گھنٹے لگ گئے ۔ رات کافی ہو گئی تھی۔پھر میں چائے بنا کر لے آیا ۔ ” اچھا ، آپ کہہ رہے تھے کہ آپ مجھے جانتے ہیں یہ بات آپ نے کیوں کہی آئی مین ہم پہلے تو کبھی نہیں ملے پھر “ چائے پیتے پیتے اس نے اچانک پوچھا تو میں ایک دم بوکھلا گیا کیونکہ میں تو وہ ذہنی توازن وغیرہ سب کچھ بھول چکا تھا لیکن اب چھپانا ممکن نہ تھا سو میں نے بے بسی کے عالم میں وہ اشتہار اور تصویر اس کو دے دی ۔ ” یہ ذلیل انسان ایسی گھٹیا حرکت بھی کر سکتا ہے ، یہ میں نے سوچانہ تھا ہمدانی!

One thought on “eleonoros paslaptis online dating”